Posts

داڑھی ‏کے ‏مسائل

داڑھی کی شرعی حیثیت اور سنّت داڑھی مبارک کی مقدار ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ محترم قارئینِ کرام : اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ ۔ (الاحزاب۳۳/۲۱) ترجمہ : بیشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے ۔ داڑھی کے متعلق 3 گروہ ۔ پہلا کہتاہے کہ داڑھی؛” حکم دین“ ہی نہیں ہے ۔ دوسرا کہتاہے کہ بڑی داڑھی رکھنا عادت ہے ، سنت نہیں ۔ تیسرا اس کے ایک مشت سے زائدکے کاٹنے کو” غیر شرعی“ کہتا ہے ۔ افراط و تفریط کی ان گھاٹیوں سے بہت دور اہل سنت و جماعت کا مسلکِ اعتدال ہے ۔ دیکھیئے جس پر آپ کو امت اسلامیہ کا جم غفیر چلتا ہوا نظر آئے گا ۔ اہل السنت و جماعت کاموقف یہ ہے کہ کم از کم ایک مشت داڑھی رکھنا واجب ہے۔ اس کو جو سنت کہا جاتاہے اس کا مطلب یہ ہے کہ داڑھی کا حکم سنت سے ثابت ہے یا یہ مطلب ہے کہ داڑھی رکھنا شرعی طریقہ ہے کیونکہ سنت کا ایک معنیٰ طریقہ بھی آتا ہے۔ لہٰذا داڑھی کو سنت لکھنے اور کہنے سے یہ اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے کہ یہ ”واجب“ نہیں ہے۔ ائمہ اربعہ اور تمام علمائے اہل السنت و جماعت کا اتفاق ہے کہ کم از کم ایک مشت داڑھی رکھنا ”واجب“ ہےاور ایک مشت سے کم د...

غیر محرم ‏و ‏محبت ‏حرام

اسلام غیر محرم لڑکے اور لڑکی کے درمیان نکاح کے علاوہ محبت کا کوئی تصور قبول نہیں کرتا۔ اسلام کے طرزِ معاشرت میں بوقتِ ضرورت غیر محرم سے بات کرنے میں بھی انتہائی محتاط انداز اپنانے کا حکم دیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: يٰـنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَـلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِيْ فِيْ قَلْبِهِ مَرَضٌ وَّقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاo اے نبی کی بیبیو! جو تم میں صریح حیا کے خلاف کوئی جرأت کرے (ف۷٦) اس پر اوروں سے دُونا عذاب ہوگا (ف۷۷) اور یہ اللہ کو آسان ہے، اگرچہ اس آیت مبارکہ میں ازواج مطہرات کو مخاطب کیا گیا ہے مگر اس کا پیغام قیامت تک آنے والی تمام عورتوں کے لیے ہے کہ کسی غیر محرم مرد سے ضروری بات کرتے ہوئے بھی نرم لہجہ اختیار نہ کیا جائے مبادا کہ نرم لہجہ اپنانے کو اشارہ و کنایہ ہی نہ سمجھ لیا جائے اور مخاطب اپنے دل میں کوئی جذبات پیدا کر لے۔

علم ‏غیب ‏اور ‏آیاتِ ‏قرآنی

بسم تعالی وَ مَا ہُوَ عَلَی الۡغَیۡبِ بِضَنِیۡنٍ ﴿ۚ۲۴﴾ اور یہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں وَ مَا ہُوَ بِقَوۡلِ شَیۡطٰنٍ رَّجِیۡمٍ ﴿ۙ۲۵﴾  اور قرآن، مردود شیطان کا پڑھا ہوا نہیں، فَاَیۡنَ تَذۡہَبُوۡنَ ﴿ؕ۲۶﴾  پھر کدھر جاتے ہو اور کیوں قرآن سے اعراض کرتے ہو۔ اِنۡ  ہُوَ  اِلَّا ذِکۡرٌ  لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۲۷﴾ وہ تو نصیحت ہی ہے سارے جہان کے لیے لِمَنۡ  شَآءَ مِنۡکُمۡ  اَنۡ یَّسۡتَقِیۡمَ ﴿ؕ۲۸﴾   اس کے لیے جو تم میں سیدھا ہونا چاہے یعنی جس کو حق کا اتباع اور اس پر قیام منظور ہو۔ قارئین عظام! یہاں سورۃ تکویر سے یہ پیغامِ ہدایت حاصل ہوا کہ رب تعالی جہاں اپنے بندوں کو قرآن عظیم کے متعلق اسے نصیحت کا کلام فرما رہا ہے وہیں مُحب اپنے حبیبﷺ کہ بارے میں ارشاد فرماتا ہے کہ وہ غیب بتانے والے ہیں۔ مزید یہ بھی فرما دیا کہ محبوب نبیﷺ غیب کی باتیں بتانے میں ہرگز بخل نہیں فرماتے۔ معلوم یہ ہوا کہ ایک طرف قرآن کو نصیحت بتا کر انسانوں کے لیے فائدہ مند و مفید ہونے کی دلیل ہے تو وہیں اسی کتاب اللہ  سے معلوم ہوا کہ تاجدارِ رسالت خاتم النیینﷺ   کو  اللّٰہ...

کلامِ ‏شہیدِ ‏جنگِ ‏آزادی

کلام: شہیدِ جنگِ آزادی، علامہ سید کفایت علی کافؔی مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ تضمین نگار: پروؔیز اشرفی احمد آبادی ٹوٹ    کر   سارا   طلسمِ    فکر   و   فن   رہ جائے  گا اور   دھرا    سارا   یہیں   جتنا   ہے دھن  رہ جائے گا نہ    تو    یہ    دھرتی   رہے   گی نہ  گگن رہ جائے گا ’’کوئی     گل    باقی    رہے   گا    نے چمن رہ جائے گا پر    رسول     اللہ     کا    دینِ    حَسن    رہ  جائے گا‘‘ ٹوٹ     کر     تارِ      ربابِ    فکر  و   فن   رہ جائے گا خاک     میں    مل    کر    گلِ شاخِ سخن رہ جائے گا چاک    ہو کر     جب    ...

علامہ ‏سید ‏کفایت ‏اللہ ‏علی ‏کافی ‏شہید

جنگِ آزادی کے مایہ ناز سپوتوں کے درمیان مولانا سید کفایت علی کافیؔ شہید ایک ایسا نام ہے جس نے مرادآباد سے انگریزی راج کا تختہ الٹنے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا، گرفتاری کے بعد جب ان کیلئے پھانسی کا فیصلہ ہوا تو اسیری کے دوران اپنی لکھی ہوئی ایک تازہ نعت شریف باآواز بلند پڑھتے ہوئے تختہء دار کی طرف گئے جسے کلامِ مستطاب، پاکیزہ کلام، کا نام دیا گیا ہے۔ کوئی گل باقی رہے گا نہ چمن رہ جائے گا پر رسول اللہ ﷺ کا دینِ حَسن رہ جائے گا مفتی سید کفایت علی کافیؔ موضع نگینہ ضلع بجنور انڈیا کے ایک سید گھرانے میں پیدا ہوئے لیکن تحصیل علم کے بعد آپ نے مراد آباد کو اپنا مسکن بنایا، پیشے کے اعتبار سے حکیم حاذق اور مدرس و مبلغ تھے، محراب و منبر کی دنیا میں اپنے علم و تصانیف اور فن تقریر کے حوالے سے ایک ممتاز حیثیت رکھتے تھے۔ ہندوستان میں جب آزادی کی لہر چلی تو مرادآباد کے ایک وفد نے روہیل کھنڈ میں جنرل بخت خان روہیلہ کیساتھ ایک ملاقات کی جس میں مراد آباد کی طرف بغاوت کے خدوخال وضع کرنے پر اتفاق کیا گیا، قاضی عصمت اللہ فاروقی صاحب کی اولاد میں نواب مجدالدین عرف نواب مجو خان ، نواب شبیر علی خان، نواب دوندے...

اسلام ‏دینِ ‏فطرت

اسلام دین فطرت ھے اس نے ساری کائنات کے لیے پیغمبرﷺ کی حیات طیبہ کو نمونہ عمل بتایا مگر انسان اس خالق ارض وسماء کی بات کو نظر انداز کر کے اپنی زندگی جینا چاھتا ھے یھی وجہ ھے آج دنیا کچھ ایسے مصائب وآلام کی شکار ھے جس کا حل اس ترقی یافتہ دنیا کے پاس نھیں ھے آج وہ بھی اسی اسلام کے درپر کاسہ گدائی لے کر کھڑا ھے جن کی نظر میں اسلامی اصول کی کوئی اھمیت نھیں تھی۔ دنیا کے دیگر مذاھب کے لوگ اگر اسلامی اصول کونہ مانیں تو کوئی بات نھیں مگر جب مسلمان اسلامی اصولوں کی دھجیاں اڑاتا ھے تو بھت تکلیف ھوتی ھے۔ آج میں کسی اور موضوع پر لکھناچاہ رھا تھا مگر ایک دوست کے ایک فون نے ہمیں اس پر لکھنے کے لیے مجبور کر دیا۔ شائد کی اتر جاے تیرے دل میں میری بات آج سے کچھ دن پھلے انھوں نے فون کر کے بتایا تھا کہ اسی ماہ میں 25 تاریخ کو ان کی بچی کی شادی ہے اس شرکت ضرور کرنی ھے مگر آج اچانک پھر فون آیا اور کھنے لگے حضرت شادی کینسل ھو گئی وجہ یہ بتائی کہ آج  لڑکے والے آۓ تھے ان لوگوں نے ڈھائی لاکھ کی بلٹ گاڑی دو لاکھ کیش کے علاوہ ایک لمبی لسٹ پکڑا دی خیر شادی تو کینسل ہوگئی مگر اس کا سب سے زیادہ برا اثر اس لڑکی پر...

سترِ ‏عورت

پردے سے متعلق شرعی اَحکام وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ۪-وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآىٕهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآىٕهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآىٕهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرٰتِ النِّسَآءِ۪-وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّؕ-وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ(۳۱) ترجمہ: کنزالایمان اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں اور اپنا ...