کلامِ شہیدِ جنگِ آزادی
کلام: شہیدِ جنگِ آزادی، علامہ سید کفایت علی کافؔی مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ
تضمین نگار: پروؔیز اشرفی احمد آبادی
ٹوٹ کر سارا طلسمِ فکر و فن رہ جائے گا
اور دھرا سارا یہیں جتنا ہے دھن رہ جائے گا
نہ تو یہ دھرتی رہے گی نہ گگن رہ جائے گا
’’کوئی گل باقی رہے گا نے چمن رہ جائے گا
پر رسول اللہ کا دینِ حَسن رہ جائے گا‘‘
ٹوٹ کر تارِ ربابِ فکر و فن رہ جائے گا
خاک میں مل کر گلِ شاخِ سخن رہ جائے گا
چاک ہو کر جب گریبانِ دہن رہ جائے گا
’’کوئی گل باقی رہے گا نے چمن رہ جائے گا
پر رسول اللہ کا دینِ حَسن رہ جائے گا‘‘
نہ کوئی غنچہ دہن نہ گلبدن رہ جائے گا
نہ نزاکت نہ کسی کا بانکپن رہ جائے گا
مٹ کے ہر اک زر نگار و سیم تن رہ جائے گا
’’کوئی گل باقی رہے گا نے چمن رہ جائے گا
پر رسول اللہ کا دینِ حَسن رہ جائے گا‘‘
پیشوا و کجکلاہ و بادشاہ و شہریار
آن و شان و طمطراق و تخت و تاج و اقتدار
ہوگا ہر اک اپنے انجامِ فنا سے ہمکنار
’’انقلابِ دور گو دنیا میں ہوگا لاکھ بار
سکہِ دینِ نبی کا پر چلن رہ جائے گا‘‘
بادشاہِ وقت ہو یا شہرِ دل کا شہریار
وہ رعایا ہو کسی کی یا ہو اہلِ اقتدار
یہ حقیقت سب پہ ہوجائے گی اک دن آشکار
’’انقلابِ دور گو دنیا میں ہوگا لاکھ بار
سکہِ دینِ نبی کا پر چلن رہ جائے گا‘‘
عیش و عشرت کے چکمتے چاک پر نازاں نہ ہو
چاہے ہو وہ قیمتِ افلاک ، پر نازاں نہ ہو
خاک کے پتلے تو اپنی خاک پر نازاں نہ ہو
’’اطلس و کمخواب کی پوشاک پر نازاں نہ ہو
اس تنِ بے جان پر خاکی کفن رہ جائے گا‘‘
زندگی اور موت کا دیکھا تماشہ بارہا
آمد و رخصت کا یونہی سلسلہ چلتا رہا
یہ حقیقت دیکھ کر دنیا کی، دل نے یوں کہا
’’ہم صفیرو ! باغ میں ہے کوئی دم کا چہچہا
بلبلیں اڑ جائیں گی ، سُونا چمن رہ جائے گا‘‘
جس کے ب صدقے میں بنی ہے کائناتِ ہست و بود
جس نے بخشا ہے جبینِ عجز کو ذوقِ سجود
وقت کی بے انتہا مصروفیت کے باوجود
’’جو پڑھے گا صاحبِ لولاک کے اوپر درود
آگ سے محفوظ اس کا تن بدن رہ جائے گا‘‘
باعثِ ایجادِ کُن ہے وہ رسولِ حق نمود
جس کی رفعت ماورائے منزلِ غیب و شہود
بندہِ مومن زباں سے کرکے ذکرِ یا ودود
’’جو پڑھے گا صاحبِ لولاک کے اوپر درود
آگ سے محفوظ اس کا تن بدن رہ جائے گا‘‘
جس گھڑی تھم جائیں گے سانسوں کے سارے کارواں
ایک ہو جائیں گے مل کر جب زمین و آسماں
ہاں مگر باقی رہے گی نسبتِ جانِ جہاں
’’نامِ شاہانِ جہاں مٹ جائیں گے لیکن یہاں
حشر تک نام و نشانِ پنجتن رہ جائے گا‘‘
خالقِ ارض و سما، پروردگارِ رنگ و بُو
اپنے بیگانے سبھی کی التجا سنتا ہے تُو
ختم کرتا ہوں اسی پر اب میں اپنی گفتگو
’’یا الہی ! گر نہ پائی میں نے اپنی آرزو
دستِ حسرت سینہ پر زیرِکفن رہ جائے گا‘‘
چاند ، سورج، کہکشاں، قوسِ قزح، تارے، دھنک
ایک دن ہوجائیں گے بے نور سارے یک بہ یک
اس حقیقت میں نہیں پروؔیز کو واللہ شک
’’سب فنا ہوجائیں گے کافؔی ولیکن حشر تک
نعتِ حضرت کا زبانوں پر سخن رہ جائے گا‘‘
Comments
Post a Comment