علم غیب اور آیاتِ قرآنی
بسم تعالی
وَ مَا ہُوَ عَلَی الۡغَیۡبِ بِضَنِیۡنٍ ﴿ۚ۲۴﴾
اور یہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں
وَ مَا ہُوَ بِقَوۡلِ شَیۡطٰنٍ رَّجِیۡمٍ ﴿ۙ۲۵﴾
اور قرآن، مردود شیطان کا پڑھا ہوا نہیں،
فَاَیۡنَ تَذۡہَبُوۡنَ ﴿ؕ۲۶﴾
پھر کدھر جاتے ہو
اور کیوں قرآن سے اعراض کرتے ہو۔
اِنۡ ہُوَ اِلَّا ذِکۡرٌ لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۲۷﴾
وہ تو نصیحت ہی ہے سارے جہان کے لیے
لِمَنۡ شَآءَ مِنۡکُمۡ اَنۡ یَّسۡتَقِیۡمَ ﴿ؕ۲۸﴾
اس کے لیے جو تم میں سیدھا ہونا چاہے
یعنی جس کو حق کا اتباع اور اس پر قیام منظور ہو۔
قارئین عظام! یہاں سورۃ تکویر سے یہ پیغامِ ہدایت حاصل ہوا کہ رب تعالی جہاں اپنے بندوں کو قرآن عظیم کے متعلق اسے نصیحت کا کلام فرما رہا ہے وہیں مُحب اپنے حبیبﷺ کہ بارے میں ارشاد فرماتا ہے کہ وہ غیب بتانے والے ہیں۔ مزید یہ بھی فرما دیا کہ محبوب نبیﷺ غیب کی باتیں بتانے میں ہرگز بخل نہیں فرماتے۔ معلوم یہ ہوا کہ ایک طرف قرآن کو نصیحت بتا کر انسانوں کے لیے فائدہ مند و مفید ہونے کی دلیل ہے تو وہیں اسی کتاب اللہ سے معلوم ہوا کہ تاجدارِ رسالت خاتم النیینﷺ کو اللّٰہ تعالیٰ نے غیب کا علم عطا فرمایا ہے اور آپ نے اس میں سے بہت کچھ اپنے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو بتایا ہے۔
لہذا اب یہ فرض ہو گیا کہ جہاں ہر پَل اللہ تعالٰی اور کتاب اللہ پر ایمان ہو، وہیں ہر پَل اللہ کے رسول غیبداں نبیﷺ کے غیب کی باتیں جاننے اور بتانے کا بھی اقرار ہو۔ اور ان آیاتِ مقدسہ میں منکرین کی نفی بھی ہوجاتی ہے۔ کیونکہ جو یہ مانے کہ نبی پاکﷺ غیب کی باتیں بتانے میں معاذ اللہ نا اہل ہیں، وہ قرآنی آیات و قول الٰہی کے خلاف باطل نظریات رکھتے ہیں۔ اور جو کتاب اللہ کی کسی بھی آیت کا انکار کرے تو وہ خارج ہے۔
حضرت ابو سعید عبداللّٰہ بن عمر بیضاوی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں ’’نبی کریمﷺ کو جو غیب کی باتیں بتائی جاتی ہیں انہیں بتانے میں وہ بخل نہیں کرتے۔( بیضاوی، التکویر، تحت الآیۃ: ۲۴، ۵ / ۴۵۹)
حضورِ اَقدسرسولِ عربیﷺ کے علمِ غیب کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے فتاویٰ رضویہ کی جلد نمبر ۲۹ سے ان ۳ رسائل کا مطالعہ فرمائیں (۱) اِنْبَاؤُ الْمُصْطَفٰی بِحَالِ سِرٍّ وَّاَخْفٰی۔ (حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کو مَاکَانَ وَمَا یَکُوْنُ کا علم دئیے جانے کا ثبوت) (۲) اِزَاحَۃُ الْعَیبْ بِسَیْفِ الْغَیبْ۔ (علمِ غیب کے مسئلے سے متعلق دلائل اور بدمذہبوں کا رد) (۳)خَالِصُ الْاِعْتِقَادْ۔ (علم غیب سے متعلق ۱۲۰ دلائل پر مشتمل ایک عظیم کتاب)
Comments
Post a Comment