غیر محرم ‏و ‏محبت ‏حرام

اسلام غیر محرم لڑکے اور لڑکی کے درمیان نکاح کے علاوہ محبت کا کوئی تصور قبول نہیں کرتا۔ اسلام کے طرزِ معاشرت میں بوقتِ ضرورت غیر محرم سے بات کرنے میں بھی انتہائی محتاط انداز اپنانے کا حکم دیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

يٰـنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَـلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِيْ فِيْ قَلْبِهِ مَرَضٌ وَّقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاo

اے نبی کی بیبیو! جو تم میں صریح حیا کے خلاف کوئی جرأت کرے (ف۷٦) اس پر اوروں سے دُونا عذاب ہوگا (ف۷۷) اور یہ اللہ کو آسان ہے،

اگرچہ اس آیت مبارکہ میں ازواج مطہرات کو مخاطب کیا گیا ہے مگر اس کا پیغام قیامت تک آنے والی تمام عورتوں کے لیے ہے کہ کسی غیر محرم مرد سے ضروری بات کرتے ہوئے بھی نرم لہجہ اختیار نہ کیا جائے مبادا کہ نرم لہجہ اپنانے کو اشارہ و کنایہ ہی نہ سمجھ لیا جائے اور مخاطب اپنے دل میں کوئی جذبات پیدا کر لے۔

Comments

Popular posts from this blog

خاتم النبیین کے معنی اور دیوبندی علماء کے عقائد کی وضاحت

علامہ ‏سید ‏کفایت ‏اللہ ‏علی ‏کافی ‏شہید

دیوبندی ‏علماء ‏کے ‏عقائد