اسلام دینِ فطرت
اسلام دین فطرت ھے اس نے ساری کائنات کے لیے پیغمبرﷺ کی حیات طیبہ کو نمونہ عمل بتایا مگر انسان اس خالق ارض وسماء کی بات کو نظر انداز کر کے اپنی زندگی جینا چاھتا ھے یھی وجہ ھے آج دنیا کچھ ایسے مصائب وآلام کی شکار ھے جس کا حل اس ترقی یافتہ دنیا کے پاس نھیں ھے آج وہ بھی اسی اسلام کے درپر کاسہ گدائی لے کر کھڑا ھے جن کی نظر میں اسلامی اصول کی کوئی اھمیت نھیں تھی۔
دنیا کے دیگر مذاھب کے لوگ اگر اسلامی اصول کونہ مانیں تو کوئی بات نھیں مگر جب مسلمان اسلامی اصولوں کی دھجیاں اڑاتا ھے تو بھت تکلیف ھوتی ھے۔
آج میں کسی اور موضوع پر لکھناچاہ رھا تھا مگر ایک دوست کے ایک فون نے ہمیں اس پر لکھنے کے لیے مجبور کر دیا۔
شائد کی اتر جاے تیرے دل میں میری بات آج سے کچھ دن پھلے انھوں نے فون کر کے بتایا تھا کہ اسی ماہ میں 25 تاریخ کو ان کی بچی کی شادی ہے اس شرکت ضرور کرنی ھے مگر آج اچانک پھر فون آیا اور کھنے لگے حضرت شادی کینسل ھو گئی وجہ یہ بتائی کہ آج لڑکے والے آۓ تھے ان لوگوں نے ڈھائی لاکھ کی بلٹ گاڑی دو لاکھ کیش کے علاوہ ایک لمبی لسٹ پکڑا دی خیر شادی تو کینسل ہوگئی مگر اس کا سب سے زیادہ برا اثر اس لڑکی پر پڑا جس کی شادی ہونی تھی آج رو رو کے اسکا برا حال ھےکل تک جو ایک خواب سجاۓ بیٹھی تھی آج اس کے خواب کا تاج محل چکناچور ھوگیا ہے اب وہ صرف رو رھی ہے اور ان آنسؤں کا ذمہ دار اس پیغمر کا امتی اور کلمہ پڑھنے والا جس پیغمبر نے خبردار کیا کہ کسی کے دل کونہ دکھاؤ کیونکہ انسان کے دل کود کھانے والا جھنمی ھے شائد اس نادان کو یہ نھیں معلوم کہ اس کہ اس حرکت نے کتنے ارمانوں کا خون کیا۔
شادی ایک خاندان کے نشونما کے لیے بنیاد کی حیثیت رکھتی ھے میرے پیغمبر نے فرمایا کہ پرھیزگاری کو ترجیح دو مگر آج کا سماج مال و دولت کو ترجیح دے رھا ھے جبکہ شادی میں جو بھی چیزیں جھیز میں ملتی ہیں سب ختم ہوجاتی ہیں سوائے اس عورت کے جو نکاح میں آتی ہے یھی پوری زندگی آپ کے ساتھ آپ کا اٹوٹ انگ ہو کر آپ کے دکھ درد کا ساتھی ہوتی ھے۔
مروجہ جھیز نےجو سماج کو نقصان پہونچایا اس میں کچھ یہ ھیں
۔(1)لوگوں کے دلوں میں لڑکیوں کی اھمیت گھٹ گئی
۔(2)ہر دن ماں کے پیٹ میں ھزاروں بیٹیوں کو قتل کیا جا رھا ہے
۔(3)ہردن ھزاروں کی تعداد میں لڑکیاں زندہ جلائی جا رہی ہیں
۔(4)ہردن ھزاروں بچیاں خودکشی کر رہی ہیں
۔(5)ہردن ھزاروں لوگ جھیز کی مانگ کو پورا کرنے کے لیے اپنی زمین و جائیداد غیر مسلموں کے ہاتھوں گروی رکھ رھے ھیں
۔(6)کھیں کھیں جھیز کی بنیاد پر ایسی بچیاں بھی آپ کے گھر کی زینت بن جاتی ھیں جو نہ آپ کے گھر کے لائق رھتی ھیں اور نہ ہی آپ کے ماحول کو وہ قبول کر پاتی ہیں
۔(7)جھیز کی مانگ پوری نہ کر پانے کی وجہ سے آج بھی بھت سی لڑکیوں کی جوانی انکے آنگن ہی میں ڈھل جارہی ہے
کیا یہ سب حالات ایک صالح معاشرے کے لیے ناسور نھیں ھیں اگر ہیں تو اس کے لیے سماج کے ہر فرد کو سوچنے کی ضرورت ہے اس کے نقصانات پر غور کرنے کی ضروت ھے پیغمبرﷺ نے ارشاد فرمایا سب سے زیادہ با برکت شادی وہ ہوتی ہےجس میں خرچ کم ہو آج ہم فضول خرچیوں میں الجھ کر شادی کی برکتوں سے محروم ہو گئے شائد یھی وجہ ھے کہ اب ھمارے گھروں میں طارق بن زیاد صلاح الدین ایوبی محمد بن قاسم کی جگہ عیاشیوں کے اڈوں کو آباد کرنے والے شراب خانوں پر ڈیرہ جمانے والے ماں باپ کی عزت و آبرو کو پامال کرنے والے بچے جنم لے رھے ہیں اور اس سب کے ذمہ دار ہمارے سماج کے لوگ ھیں اگر ہم یہ طے کر لیں کہ ہمیں اس مروجہ جھیز خاتمہ کرنا ہے توممکن ہے۔
ہم نے راجستھان کے ضلع ناگور میں ایک قصبہ بانسنی کو دیکھا وہاں کے مسلمانوں کی شادیاں اتنے میں ہوجاتی ہیں جتنے میں آپ منگنی بھی نہیں کرپاتے وہ فضول خرچی نھیں کرتے ھاں مگر ان کے پاس ان کا خود کا کالج ھے اسکول ھے بھترین دارلعلوم ھے خوبصورت مساجد ہیں
اس لیے ضروت اس چیز کی ھے کہ سماج ہوش کے ناخون لے اور مروجہ جھیز کے اس ناسور کو سماج سے ختم کرنے کے لیے لائحیہ عمل تیار کرے ورنہ
لمحوں نے خطا کی ھے صدیوں نےسزا پائی
Comments
Post a Comment