خاتم النبیین کے معنی اور دیوبندی علماء کے عقائد کی وضاحت
خاتم النبیین کے کیا معنی اور دیوبندی علماء کے عقائد کی وضاحت۔
اسکے معنی ہیں’’سب نبیوں سے پچھلے نبی یعنی آخری نبی‘‘۔جو حضور ﷺ کے بعد کسی اور کو نبوت ملنا ممکن جانے وہ کافر ہے۔
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠(۴۰)
ترجمہ: کنزالایمان
محمّد(ﷺ) تمہارے مَردوں میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے
{وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ: اور سب نبیوں کے آخر میں تشریف لانے والے ہیں ۔} یعنی محمد مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ آخری نبی ہیں کہ اب آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور نبوت آپ پر ختم ہوگئی ہے اور آپ کی نبوت کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی حتّٰی کہ جب حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نازل ہوں گے تو اگرچہ نبوت پہلے پاچکے ہیں مگر نزول کے بعد نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شریعت پر عمل پیرا ہوں گے اور اسی شریعت پر حکم کریں گے اور آپ ہی کے قبلہ یعنی کعبہ معظمہ کی طرف نماز پڑھیں گے۔( خازن، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۴۰، ۳ / ۵۰۳)
نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا آخری نبی ہونا قطعی ہے:
یاد رہے کہ حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا آخری نبی ہونا قطعی ہے اور یہ قطعیَّت قرآن و حدیث و اِجماعِ امت سے ثابت ہے۔ قرآن مجید کی صریح آیت بھی موجود ہے اور اَحادیث تَواتُر کی حد تک پہنچی ہوئی ہیں اور امت کا اِجماعِ قطعی بھی ہے، ان سب سے ثابت ہے کہ حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سب سے آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی ہونے والا نہیں۔ جو حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت کے بعد کسی اور کو نبوت ملنا ممکن جانے وہ ختمِ نبوت کا منکر، کافر اور اسلام سے خارج ہے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : اللہ عَزَّوَجَلَّ سچا اور اس کا کلام سچا، مسلمان پر جس طرح لَا ٓاِلٰـہَ اِلَّا اللہ ماننا، اللہ سُبْحٰنَہٗ وَتَعَالٰی کو اَحد، صَمد، لَا شَرِیْکَ لَہ (یعنی ایک، بے نیاز اور اس کا کوئی شریک نہ ہونا) جاننا فرضِ اوّل ومَناطِ ایمان ہے، یونہی مُحَمَّدٌ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ماننا ان کے زمانے میں خواہ ان کے بعد کسی نبی ٔجدید کی بِعثَت کو یقینا محال و باطل جاننا فرضِ اَجل و جزء اِیقان ہے۔ ’’وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ‘‘ نصِ قطعی قرآن ہے، اس کا منکر نہ منکر بلکہ شبہ کرنے والا، نہ شاک کہ ادنیٰ ضعیف احتمال خفیف سے توہّم خلاف رکھنے والا، قطعاً اجماعاً کافر ملعون مُخَلَّد فِی النِّیْرَان (یعنی ہمیشہ کے لئے جہنمی) ہے، نہ ایسا کہ وہی کافر ہو بلکہ جو اس کے عقیدہ ملعونہ پر مطلع ہو کر اسے کافر نہ جانے وہ بھی کافر، جو اس کے کافر ہونے میں شک و تَرَدُّد کو راہ دے وہ بھی کافر بَیِّنُ الْکَافِرْ جَلِیُّ الْکُفْرَانْ (یعنی واضح کافر اور اس کا کفر روشن) ہے۔ ( فتاویٰ رضویہ، رسالہ: جزاء اللّٰہ عدوہ باباۂ ختم النبوۃ، ۱۵ / ۶۳۰)
’’میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے بہت حسین و جمیل ایک گھر بنایا، مگر اس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی، لوگ اس کے گرد گھومنے لگے اور تعجب سے یہ کہنے لگے کہ اس نے یہ اینٹ کیوں نہ رکھی؟ پھر حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا میں (قصرِ نبوت کی) وہ اینٹ ہوں اور میں خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ہوں۔ (مسلم، کتاب الفضائل، باب ذکر کونہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خاتم النبیین، ص۱۲۵۵، الحدیث: ۲۲(۲۲۸۶))
نبوت سے متعلق 10 احادیث نبوی:
یہاں نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے آخری نبی ہونے سے متعلق 10 اَحادیث ملاحظہ ہوں؛
(1)…حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’میری مثال اورمجھ سے پہلے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے بہت حسین وجمیل ایک گھربنایا،مگراس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی ،لوگ اس کے گردگھومنے لگے اورتعجب سے یہ کہنے لگے کہ اس نے یہ اینٹ کیوں نہ رکھی ؟پھرآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا میں (قصر ِنبوت کی) وہ اینٹ ہوں اورمیں خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ہوں۔(مسلم، کتاب الفضائل، باب ذکر کونہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خاتم النبیین، ص۱۲۵۵، الحدیث: ۲۲(۲۲۸۶))
(2)…حضرت ثوبان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ نے میرے لیے تمام روئے زمین کولپیٹ دیا اور میں نے اس کے مشرقوں اور مغربوں کو دیکھ لیا۔ (اور اس حدیث کے آخر میں ارشاد فرمایا کہ) عنقریب میری امت میں تیس کذّاب ہوں گے، ان میں سے ہر ایک گمان کرے گا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خَاتَمَ النَّبِیّٖن ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے ۔(ابوداؤد، کتاب الفتن والملاحم، باب ذکر الفتن ودلائلہا، ۴ / ۱۳۲، الحدیث: ۴۲۵۲)
(3)…حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’مجھے چھ وجوہ سے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر فضیلت دی گئی ہے۔ (1)مجھے جامع کلمات عطا کیے گئے ہیں۔ (2)رعب سے میری مدد کی گئی ہے۔ (3)میرے لیے غنیمتوں کو حلال کر دیا گیا ہے۔ (4)تمام روئے زمین کو میرے لیے طہارت اور نماز کی جگہ بنا دیا گیا ہے۔ (5)مجھے تمام مخلوق کی طرف (نبی بنا کر) بھیجا گیا ہے۔ (6)اور مجھ پرنبیوں(کے سلسلے) کو ختم کیا گیا ہے۔(مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ، ص۲۶۶، الحدیث: ۵(۵۲۳))
(4)…حضرت جبیر بن مطعم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’بیشک میرے متعدد نام ہیں، میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں کہ اللہ تعالیٰ میرے سبب سے کفر مٹاتا ہے، میں حاشر ہوں میرے قدموں پر لوگوں کا حشر ہوگا، میں عاقب ہوں اور عاقب وہ جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔(ترمذی، کتاب الادب، باب ما جاء فی اسماء النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم، ۴ / ۳۸۲، الحدیث: ۲۸۴۹)
(5)…حضرت جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’میں تمام رسولوں کا قائد ہوں اور یہ بات بطورِ فخر نہیں کہتا، میں تمام پیغمبروں کا خاتَم ہوں اور یہ بات بطورِ فخر نہیں کہتا اور میں سب سے پہلی شفاعت کرنے والا اور سب سے پہلا شفاعت قبول کیا گیا ہوں اور یہ بات فخر کے طور پر ارشاد نہیں فرماتا ۔(معجم الاوسط، باب الالف، من اسمہ: احمد، ۱ / ۶۳، الحدیث: ۱۷۰)
(6)…حضرت عرباض بن ساریہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’بیشک میں اللہ تعالیٰ کے حضور لوحِ محفوظ میں خَاتَمَ النَّبِیّٖن (لکھا) تھا جب حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنی مٹی میں گندھے ہوئے تھے۔(مسند امام احمد، مسند الشامیین، حدیث العرباض بن ساریۃ عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم،۶ / ۸۷، الحدیث:۱۷۱۶۳)
(7)…حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک رسالت اور نبوت ختم ہوگئی، اب میرے بعد نہ کوئی رسول ہے نہ کوئی نبی۔(ترمذی،کتاب الرؤیا عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم،باب ذہبت النبوّۃ وبقیت المبشَّرات،۴ / ۱۲۱،الحدیث:۲۲۷۹)
(8)…حضرت سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے ارشاد فرمایا: ’’اَمَا تَرْضٰی اَنْ تَکُوْنَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ہَارُوْنَ مِنْ مُوسٰی غَیْرَ اَنَّہٗ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ‘‘ (مسلم،کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل علیّ بن ابی طالب رضی اللّٰہ عنہ، ص۱۳۱۰، الحدیث: ۳۱(۲۴۰۴)) یعنی کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تم یہاں میری نیابت میں ایسے رہو جیسے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام جب اپنے رب سے کلام کے لئے حاضر ہوئے تو حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اپنی نیابت میں چھوڑ گئے تھے، ہاں یہ فرق ہے کہ حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نبی تھے جبکہ میری تشریف آوری کے بعد دوسرے کے لئے نبوت نہیں اس لئے تم نبی نہیں ہو۔
(9)…حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے شَمائل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دو کندھوں کے درمیان مہرِ نبوت تھی اور آپ خاتَمُ النَّبِیِّیْن تھے۔(ترمذی،کتاب الرؤیا عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم،باب ذہبت النبوّۃ وبقیت المبشَّرات،۴ / ۱۲۱،الحدیث:۲۲۷۹)
(10)…حضرت ابو امامہ باہلی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اے لوگو! بے شک میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں، لہٰذا تم اپنے رب کی عبادت کرو، پانچ نمازیں پڑھو، اپنے مہینے کے روزے رکھو، اپنے مالوں کی خوش دلی کے ساتھ زکوٰۃ ادا کرو، اپنے حُکّام کی اطاعت کرو (اور) اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ۔(معجم الکبیر، صدی بن العجلان ابو امامۃ الباہلی۔۔۔ الخ، محمد بن زیاد الالہانی عن ابی امامۃ، ۸ / ۱۱۵، الحدیث: ۷۵۳۵)
دیوبندی مولوی قاسم نانوتوی نے نبی کے آخری نبی ہونے کا انکار کیا۔
دیوبندی مذہب کے بانی مولوی قاسم نانوتوی صاحب نے اپنی کتاب "تحذیر الناس" (ص ۳ و ص ۱۴ و ص ۲۸ ) میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے آخری نبی ہونے کا انکار کیا...
"فتاوی حسام الحرمین" ص ۱۱۳ میں ہے۔۔۔
و بالحملۃ ھولاء الطوائف کلھم کفار مرتدون خارجون عن الاسلام باجماع المسلمین۔ و قد قال فی البزازیۃ والدر والغرر والفتاوی الخیریہ ومجمع الانھر والدر المختار وغیرھا من معتمدات الاسفار فی مثل ھؤلاء الکفار من شک فی کفرہ و عذابہ کفر۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ طائفے (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی، قاسم نانوتوی، رشید احمد گنگوہی، خلیل احمد، اشرف علی تھانوی اور انکے ہم عقیدہ چیلے) سب کے سب کافر و مرتد ہیں۔ باجماعِ امت اسلام سے خارج ہیں اور بے شک بزازیہ، در، غرر،فتاوی خیریہ، مجمع الانہر اور در مختار وغیرہ معتمد کتابوں میں ایسے کافروں کے حق میں فرمایا ہے کہ جو شخص انکے عقائد کفر پہ آگاہ ہو کر انکے کفر و عذاب میں شک کرے، تو خود کافر ہے۔
مکہ شریف کے عالم جلیل حضرت مولانا سید اسمعیل علیہ الرحمۃ والرضوان اپنے فتویٰ میں تحریر فرماتے ہیں۔
اما بعد فاقول ان ھوُلاء الفرق الواقعین فی السوال غلام احمد القادیانی و رشید احمد و من تبعہ کخلیل الانبیتھی و اشرف علی وغیرھم لا شبھتم فی کفرھم بلا مجال بل لا مشبھتہ فیمن شک بل فیمن توقف فی کفرھم بحال من الاحوال
ترجمہ: میں حمد و صلاۃ کے بعد کہتا ہوں کہ یہ طائفے جن کا تذکرہ سوال میں واقع ہے، غلام احمد قادیانی، رشید احمد اور جو اس کے پیرو ہوں جیسے خلیل احمد، اشرف علی وغیرہ ان کے کفر میں کوئی شبہ نہیں، نہ شک کی مجال بلکہ جو ان کے کفر میں شک کرے بلکہ کسی طرح کسی حال میں انہیں کافر کہنے میں توقف کرے، اس کے کفر میں بھی شبہ نہیں (حسام الحرمین، ص ۱۲۰)
غیر منقسم ہندوستان کے علمائے اسلام کے فتاوی کامجموعہ "اَلصَّوَارمُ الھندیۃ" ص ۷ میں ہے کہ ان لوگوں (یعنی قادیانیوں، وہابیوں، دیوبندیوں کے پیچھے نماز پڑھنے، ان کے جنازہ کی نماز پڑھنے، ان کے ساتھ شادی بیاہ کرنے، ان کے ہاتھ کا ذبح کیا ہوا کھانے، ان کے پاس بیٹھنے، ان سے بات چیت کرنے اور تمام معاملات میں انکا حکم بعینہ وہی ہے، جو مرتد کا ہے۔ یعنی یہ تمام باتیں سخت حرام گناہ ہیں۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے۔۔۔
وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّکَ الشَّیْطنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّلِمیْن َ
سورۃ الانعام، آیت ۶۸پ ۷
ترجمہ: اور اگر تجھے شیطان بھلا دے، تو یاد آ جانے پر ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھو۔
خود سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں۔
ان مرضوا فلا تعودوھم و ان ماتوا فلا تشھدوھم و ان لقیتم فلا تسلموا علیھم
یعنی اگر (بدمذہب بددین) بیمار پڑیں، تو ان کو پوچھنے نہ جاؤ اور اگر وہ مر جائیں، تو ان کے جنازہ پر حاضر نہ ہو اور اگر انکا سامنا ہو، تو سلام نہ کرو(سنن ابن ماجہ، المقدمہ في اواخر باب القدر)
ایک اور جگہ یوں فرمایا۔۔۔
ولا تناکحوھم ولا تؤاکلو ھم ولا تشاربو ھم ولا تصلوا علیھم ولا تصلوا معھم
ترجمہ: ان سے شادی بیاہ نہ کرو، ان کے ساتھ نہ کھاؤ، ان کے ساتھ نہ پیو، ان کے جنازہ کی نماز نہ پڑھو اور ان کے ساتھ نماز نہ پڑھو۔
(کنزالعمال، کتاب الفضائل، الفصل الاول فی الباب الثالث فی ذکر الصحابۃ و فضلھم ث)
پھر چونکہ قادیانی، وہابی، دیوبندی، غیر مقلد، ندوی، مودودی، تبلیغی یہ سب کے سب بحکم شریعت اسلامیہ گمراہ، بدعقیدہ، بددین، بد مذہب ہیں، اس حدیث و فقہ کے ارشاد کے مطابق اس شرعی دینی مسئلہ سے سب کو آگاہ کر دیا جاتا ہے کہ قادیانیوں، غیر مقلدوں، وہابیوں، دیوبندیوں، مودودیوں وغیرہ بدمذہبوں کے پیچھے نماز پڑھنا سخت حرام ہے۔ ان سے شادی بیاہ کا رشتہ قائم کرنا اشد حرام ہے۔ ان کے ساتھ نماز پڑھنا یا ان کے جنازہ کی نماز پڑھنا سخت گناہ کبیرہ ہے۔ ان سے اسلامی تعلقات قائم کرنا اپنے دین کو ہلاک اور ایمان کو برباد کرنا ہے۔ جو ان باتوں کو مان کر ان پر عمل کریگا، اسکے لئے نور ہے اور جو نہیں مانے گا اسکے لئے نار ہے والعیاذ باللہ تعالی۔
جھوٹے، مکار، دغاباز، بدمذہب، بددین خدا و رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان میں توہین کرنے والے مرتدین براہ مکر و فریب، اتحاد و اتفاق کا جھوٹا منافقانہ نعرہ بہت لگاتے ہیں اور زور سے لگاتے ہیں اور جو متصلب مسلمان اپنے دین و ایمان کو بچانے کیلئے ان سے الگ رہے، اسکے سر اختلاف و افتراق کا الزام تھوپتے ہیں، جو مخلص مسلمان شرع کے روکنے کی وجہ سے ان بدمذہبوں کے پیچھے نماز نہ پڑھے، اسکو فسادی اور جھگڑالو بتاتے ہیں۔ جو صحیح العقیدہ مسلمان فتوی حسام الحرمین کے مطابق سید عالم صلی اللہ تعالے علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو کافر و مرتد کہے، اسکو گالی بکنے والا قرار دیتے ہیں۔ ایسے تمام صلح کلی منافقوں سے میرا مطالبہ ہے کہ اگر واقعی تم لوگ سُنی مسلمانوں سے اتحاد و اتفاق چاہتے ہو، تو سب سے پہلے بارگاہ الہی میں اپنے عقائد کفریہ و خیالاتِ باطلہ سے سچی توبہ کر ڈالو۔ خدا و رسول جل جلالہ ،و صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے سے باز آجاؤ اور گستاخی کرنے والوں کی طرفداری اور حمایت سے الگ ہو جاؤ اور سچا سُنّی مذہب قبول کر لو۔ اگر ایسا کر لو تو تمہارے اور ہمارے درمیان بالکل اتحاد و اتفاق ہو جائے گا اور اگر خدا نخواستہ تم اپنے اعتقادات کفریہ سے توبہ کرنے پر تیاّر نہیں، تم گستاخی کرنے اور لکھنے والے مولویوں سے رشتہ ختم نہیں کر سکتے۔ سُنّی مذہب قبول کرنا تمہیں گوار ا نہیں، تو ہم قرآن و حدیث کی تعلیمات حقّہ کو چھوڑ کر بددینوں، بدمذہبوں سے اتحاد نہیں کر سکتے۔ رہا متصلب سُنّی مسلمان کو جھگڑالو، فسادی، گالی بکنے والا، کہنا تو یہ پُرانی دھاندلی اور زیادتی ہے۔ گالی تو وہ بک رہا ہے، جس نے تقویت الایمان لکھی، جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو بڑا بھائی بنایا، جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے انبیائے کرام کو بارگاہ الہی میں ذرہ ناچیز سے بھی کم تر اور چمار سے بھی زیادہ ذلیل کہا، گالی تو وہ بک رہا ہے، جس نے حفظ الایمان ص ۸ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے علم کو پاگلوں اور جانوروں، چوپایوں کے علم غیب کی طرح ٹھہرایا۔ بد زبانی تو وہ کر رہا ہے، جس نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے علم مقدس کو شیطان کے علم سے کم قرار دیا۔ اصل جھگڑالو تو وہ ہے، جس نے تحذیر الناس میں مسئلہ ختم نبوت کا انکار کیا اور حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو آخری نبی ماننا عوام جاہلوں کا خیال بتایا۔ واقعی فسادی تو وہ ہے، جس نے براہین قاطعہ میں اللہ تعالی کے متعلق جھوٹ بول سکنے کا نیا عقیدہ گھڑا اور جس نے اُردو زبان میں سرکار رسالت علیہ الصلاۃ والسلام کو علمائے دیوبند کا شاگرد بنایا۔ سُنّی مسلمان نہ جھگڑا لو اور فسادی ہے، نہ گالی بکنے والا۔ وہ تو شریعت اسلامیہ کے حکم کے مطابق ان گستاخ مولویوں کو کافر و مرتد کہتا ہے، جو بارگاہِ احدیت اور سرکار رسالت صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں گستاخی کرتے اور ضروریات دین کے منکر ہیں۔ عقائد ضروریہ دینیہ کی مخالفت کرنے والوں کو کافر و مرتد کہنا، ان کے حق میں منافق کا لفظ استعـمال کرنا، ہرگز ہرگز گالی نہیں ہے۔ خود اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کافر، کفار، مشرکین، منافقین وغیرہ کلمات مخالفین اسلام کے حق میں ارشاد فرمایا ہے۔ تو کیا کوئی بدنصیب اتنا کہنے کی جرأت کر سکتا ہے کہ قرآن عظیم نے گالی دی ہے۔ معاذاللہ تعالی
مسلمانو! وہابیوں، دیوبندیوں سے تمہیں نہ حجت کرنے کی ضرورت ہے، نہ ان کا زق زق بق بق سننے کی حاجت ہے۔ تم ان سے گالی گلوچ اور جھگڑا نہ کرو۔ بس تم ان کی صحبت سے دور رہو۔ اپنے سے ان کو دور رکھو۔ تمہارے آقا نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے تمہیں یہی تعلیم دی ہے۔ چنانچہ ارشاد فرماتے ہیں۔۔۔
ایاکم و ایاھم لایضلونکم ولا یفتنونک
یعنی مسلمانو! تم بدمذہبوں کی محبت سے بچو۔ اپنے کو ان سے دور رکھو، نہیں تو وہ تمہیں سچے راستے سے بہکا دیں گے اور تمہیں بددین بنا دیں گے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اور تمہیں سچی ہدایت پر قائم رکھے آمین...
نوٹ کیجیئے کہ حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ختمِ نبوت کے دلائل اور مُنکروں کے رد کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے فتاویٰ رضویہ کی 14ویں جلد میں موجود رسالہ ’’اَلْمُبِیْن خَتْمُ النَّبِیِّیْن‘‘ (حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے آخری نبی ہونے کے دلائل) اور 15ویں جلد میں موجود رسالہ ’’جَزَاءُ اللہِ عَدُوَّہٗ بِاِبَائِہٖ خَتْمَ النُّبُوَّۃِ‘‘ (ختم نبوت کا انکار کرنے والوں کا رد) مطالعہ فرمائیں ۔
Comments
Post a Comment